آپ کے لئے شاید جنگ بندی ہوگئی ہو
آپ کے لئے شاید جنگ بندی ہوگئی ہو۔ لیکن ہم ایس ای او اور بلاگرز کی جنگ اب شروع ہوئی ہے۔ ہمارا دشمن پراپیگنڈہ ماسٹر ہے۔ اور اس کی کوشش رہتی ہے کہ اپنی عوام کو خوش رکھا جائے اور خیالی دنیا میں رکھا جائے۔ جسکا حال میں براہ راست نظارہ کیا آپ سب نے۔
اب کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی و دیگر اے آئی ٹولز عوام کی موجودگی میں میزائل چلانے کی ویڈیوز اور باقی جنگی جہاز کی ویڈیوز کو وہ ویڈیو گیم ویڈیوز کہہ رہا ہے۔ کیونکہ فزیکل جنگ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل جنگ بھی لڑی جاتی ہے۔ اور کوشش رہتی ہے کہ غلط یا مشابہت زدہ چیزیں بھی دوسروں کی فتح کی صورت میں شیئر کردی جائیں۔ جس کو وہ بھرپور شیئر کر کے وائرل کریں، اور بعد میں اسی کو جواز بناتے ہوئے حقیقت کو الجھا دیا جائے۔
پہلے پہل ہماری جنگ بلاگز لکھنے اور ان کو رینک کرنے تک ہوتی تھی۔
مثال کے طور پر “نمک حرام” کی ورڈ اگر دو ہزار سولہ سے دو ہزار انیس تک سرچ کرتے آپ گوگل پر تو اس کے جواب میں گوگل انڈین جھنڈا دکھاتا اور انڈیا ملک بتاتا تھا۔
پھر مزید کی ورڈز کا اضافہ ہوا اور نمک حرام کنٹری۔ حرام خور کنٹری یہ بھی شامل ہوگئے۔ ہماری کوشش ہوتی تھی کہ اس کی ورڈ پر انڈیا ٹاپ پر رہے۔ اس طرح انہوں نے خنس نکالی اور ایس ای او کے ذریعے بیسٹ ٹوائلٹ پیپر ان ورلڈ کی ورڈ پر پاکستان کا جھنڈا لگا دیا۔
اسکو ڈی رینک کیسے کرتے تھے۔۔ سیم کی ورڈ پر دیگر ممالک کو ٹارگٹ کردینا۔ تاکہ سرچ انجن کنفیوز رہے۔ دوسرے کی سائیٹ پر فیک ٹریفک بھیجنا۔۔
لنک سپیمنگ کرنا، نیگیٹو لنکس، ہیکنگ، رپورٹنگ وغیرہ تاکہ گوگل سائیٹ ڈی انڈیکس کردے۔
لیکن اب معاملہ صرف گوگل تک محدود نہیں رہا، اے آئی آپٹیمائزیشن، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، اے آئی اورویو، اے آئی جنریٹو سمری یہ سب بھی اسکا حصہ ہیں۔
جس کی حالیہ مثال چیٹ جی پی ٹی کا ہماری اوریجنل لوگوں کی موجودگی میں میزائل فائر کرنے والی ویڈیو کو گیم ویڈیو وغیرہ کہنا۔۔۔
کیونکہ ہمارا دشمن جو کہ ناکام ہوچکا ہے، لیکن تاحال حقائق ماننے سے گریزاں ہے۔ وہ بھی سے ایسے پراپیگنڈہ کری ایٹ کر رہا ہے جس کو باقاعدہ انکا میڈیا اور ویب بلاگز پبلش کررہے ہیں۔ اب اے آئی ٹولز اپنے جوابات عوامی ڈیٹا، فورمز، خبروں اور ویب سائیٹس سے سیکھتے ہیں۔ تو وہ اس طرح پروگرام ہو رہا ہے جیسے بس پاکستان کو نقصان ہوا۔ انڈیا نے فتح حاصل کی۔ کیونکہ پراپیگنڈہ سائیٹس جتنا ذیادہ مواد ڈالیں گی سورس کے طور پر اے آئی کا جھکاؤ انہی کی طرف ذیادہ ہوگا۔
یہی جب آنے والی ہماری نسلوں کو کوئی کہے گا کہ فلاں اے آئی سے پوچھ لو، ریسرچ کرلو تو اس بنا پر جو ڈیٹا انہیں ملے گا تو انہوں نے یہی کہنا ہے کہ
بس سب جھوٹ ہی لکھا ہے مطالعہ پاکستان میں۔۔
اس سب میں ہمارے جو بلاگرز ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مصدقہ یا اپنے حق میں بہتر معلومات والے ذرائع کے مواد کو سورس کے طور پر استعمال کرنا۔۔ ایسے کی ورڈز پر بار بار لکھنا جن سے سچ کو دبایا نہ جاسکے۔ دوسری طرف والی پارٹی کے پراپیگنڈہ سورس کو باقاعدہ ریسرچ اور تحقیق کی صورت میں مصدقہ سورس کے ذریعے رد کرنا اور انکا ڈیجیٹل بیک اپ بنانا۔۔
کیونکہ جہاں یہ جنگ ختم ہوئی۔۔ وہاں سے ہماری اصل جنگ شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ تاریخ صرف مطالعہ پاکستان میں نہیں بلکہ اے آئی اور گوگل پر بھی لکھی جارہی ہوتی ہے۔